Showing posts with label Kashmir. Show all posts
Showing posts with label Kashmir. Show all posts

Thursday, August 8, 2019

An Open Letter to Prime Minister Narendra Modi


An Open Letter to Prime Minister Narendra Modi


Image result for modi

Mr Modi,

We, Pakistanis are living in this era of 2019, to your discomfort we have managed to celebrate 72 years of independence. However, there is still a big fraction of living breathing humans who are still trapped in 1947. They are humans like you and every other Indian you claim to represent. They are Kashmiris.

The Kashmiris I am talking about seems to have been stuck in a time capsule which belongs to the horrors of 1947. These horrors are executed by no one else but your Indian Army. Generations of Muslims were destroyed in the migration from India to Pakistan, but till this date, countless generations of Kashmiris are still suffering at your hand. They are suffering at the hand of racial superiority idealized by you, they are suffering from the hunger and lust for power and land that you and your government possess Mr. Modi.

Mr. Modi, your government did not only scrap Article 370, but your government also scrapped the hope on which the Kashmiris fed themselves, you scrapped the oxygen out of the air they breathe and you scrapped the little hope they had for living freely one day as an independent nation. In case you’ve forgotten or dismissed the monstrosities of 1947, which have a striking resemblance to those which we see today in Kashmir, let me remind you. Let me remind you of all the Muslim men, women and kids who were tortured, killed and raped ruthlessly and with cold blood. Let me remind you of all those trains to Pakistan which were filled with blood and dead bodies of our ancestors. Let me remind you, Mr. Modi, that you have failed as a human, you have failed to project the secular image your government so lovingly claims to follow because of 72 years later Muslims in Kashmir are still tortured, blinded, killed and raped by the hands of Indian Army.

Let me inform you of a few Kashmiris whose blood is on your hands. Let me inform you, Tufail Mattoo who was 17 when he was hit by a teargas shell fired by police in the head. He was returning from his tuition classes. His killers still roam free even after 7 years of his death. Let me inform you of, Asifa Bano, an 8-year-old Muslim girl who was kidnapped and killed by Hindu nationalists and a senior Indian police officer. She was held captive in a temple for 4 days, she was strangulated, drugged and raped. Let me remind you of, Wamiq Farooq who was 13 and loved cricket but this love cost him his life. He was playing cricket when Indian forces decided to kill him. The murderers were granted bail by the Indian court.

For how long will you blindly feed your lust for power by killing innocent Muslims? For how long will you feed you political propagandas with Muslim lives? For how long will you remain to be this cold-blooded animal? 

Tuesday, August 6, 2019

کشمیر بن گیا فلسطین



کشمیر بن گیا فلسطین

بھارتی پارلیمنٹ نے آرٹیکل 370 اور دفعہ 35 اے منسوخ کردیا ہے , یہ ہے کیا آئیے آپ کو بتاتے ہیں

 دفعہ 370 ایک خصوصی دفعہ ہے جو ریاست جموں وکشمیر کو جداگانہ حیثیت دیتی ہے۔ یہ دفعہ جموں کشمیر کو اپنا آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتی ہے جب کہ زیادہ تر امور میں وفاقی آئین کے نفاذ کو جموں کشمیر میں ممنوع کرتی ہے۔ اس خصوصی دفعہ کے تحت دفاعی امور، مالیات، خارجہ امور وغیرہ کو چھوڑ کر کسی اور معاملے میں متحدہ مرکزی حکومت، مرکزی پارلیمان اور ریاستی حکومت کی توثیق و منظوری کے بغیر بھارتی قوانین کا نفاذ کشمیر  میں نہیں کر سکتی۔ دفعہ 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو ایک خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہے۔ بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست جموں کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔

اس دفعہ کے تحت ریاست جموں و کشمیر کے بہت سے بنیادی امور جن میں شہریوں کے لیے جائداد، شہریت اور بنیادی انسانی حقوق شامل ہیں ان کے قوانین عام بھارتی قوانین سے مختلف ہیں۔

 مہاراجا ہری سنگھ کے 1927ء کے باشندگان ریاست قانون کو بھی محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی ہے چنانچہ بھارت کا کوئی بھی عام شہری ریاست جموں و کشمیر کے اندر جائداد نہیں خرید سکتا، یہ امر صرف بھارت کے عام شہریوں کی حد تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ بھارتی کارپوریشنز اور دیگر نجی اور سرکاری کمپنیاں بھی ریاست کے اندر بلا قانونی جواز جائداد حاصل نہیں کر سکتی ہیں۔

 اس قانون کے مطابق ریاست کے اندر رہائشی کالونیاں بنانے اور صنعتی کارخانے، ڈیم اور دیگر کارخانے لگانے کے لیے ریاستی اراضی پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی قسم کے تغیرات کے لیے ریاست کے نمائندگان کی مرضی حاصل کرنا ضروری ہے جو منتخب اسمبلی کی شکل میں موجود ہوتے ہیں...

اب اس آرٹیکل کو ختم کرنے کے بعد جموں وکشمیر کی یہ حیثیت باقی نہیں رہے گی ....

!دفعہ 35 اے  

انڈیا کے آئین میں جموں کشمیر کی خصوصی شہریت کے حق سے متعلق دفعہ 35-A کا مسئلہ کشمیر سے بھی پرانا ہے۔ اس قانون کی رُو سے جموں کشمیر کی حدود سے باہر کسی بھی علاقے کا شہری ریاست میں غیرمنقولہ جائیداد کا مالک نہیں بن سکتا، یہاں نوکری حاصل نہیں کرسکتا اور نہ کشمیر میں آزادانہ طور سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔

یہ قوانین ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے سنہ 1927 سے 1932 کے درمیان مرتب کیے تھے اور ان ہی قوانین کو سنہ 1954 میں ایک صدارتی حکمنامہ کے ذریعہ آئین ہند میں شامل کرلیا گیا۔
انڈیا کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) گذشتہ 70 سال سے کشمیر سے متعلق انڈین آئین میں موجود اُن تمام حفاظتی دیواروں کو گرانا چاہتی تھی  جو جموں کشمیرکو دیگر بھارتی ریاستوں سے منفرد بناتی ہیں۔ مثال کے طور پرجموں کشمیر کا اپنا آئین ہے اور ہندوستانی آئین کی کوئی شق یہاں نافذ کرنی ہو تو پہلے مقامی اسمبلی اپنے آئین میں ترمیم کرتی ہے اور اس کے لیے اسمبلی میں اتفاق رائے ضروری ہوتا ہے۔

حالانکہ کشمیر کی خودمختاری کی اب وہ صورت نہیں رہی جو 70 سال قبل تھی۔ یہاں پاکستانی زیرانتظام کشمیر کی طرح وزیراعظم ہوتا تھا اور صدرریاست ہوتا تھا۔ لیکن اب دیگر ریاستوں کی طرح گورنر اور وزیراعلی ہوتا ہے۔ تاہم 35-A کی آئینی شق ابھی بھی ریاست کے باشندوں کو غیرکشمیریوں کی بے تجاشا آبادکاری سے بچارہی ہے۔ اسی شق کو بی جے پی کی حامی این جی او 'وی دا سٹیزنز' نے سپریم کورٹ میں چلینج کیا تھا 

اب اس قانون کے ختم ہونے کے بعد کشمیری فلسطینیوں کی طرح بے وطن ہوجائیں گے، کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں غیرمسلم آبادکار یہاں بس جائیں گے، جو ان کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قابض ہوجائیں گے.


A message to Tariq Jameel Sahab

A message to Tariq Jamil Sahab          کسی عرب ملک کے پوش علاقے کی مسجد کے خطیب صاحب نے منبر پر چڑھ کر "کفایت شعاری، صبر اور پرہ...